گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – وادی استور

منگل 01 اگست 2017

استور میں ہم صبح سویرے جاگے اور ویسے بھی ٹینٹ میں دھوپ کی وجہ سے بندہ دوپہر تک نہیں سو سکتا ۔ اسی ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم دیوسائی کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہم پر دیوسائی کا ایسا جنون سوار تھا کہ ہم نے راما جھیل جانے کی زحمت بھی نہ کی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ استور سے دیوسائی کافی ذیادہ راستہ تھا۔استور سے راما جھیل 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

 

وادی استور

وادی استور

راستے میں ایک جگہ سے آپ کو دیوسائی کیلئے بائیں جانب مڑنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ دائیں جانب جائیں تو تقریبا ڈیڈھ گھنٹے بعد نانگا پربت بیس کیمپ آتا ہے۔ نانگا پربت آپ فیری میڈوز سے بھی پہنچ سکتے ہیں اور استور سے اسکا دوسرا راستہ ہے۔ خیر اپنے جنون کو دیکھتے ہوئے ہم دیوسائی کی جانب مڑ دیئے۔ وہاں ایک جگہ سے ہم نے بوتلوں میں پیٹرول خرید کر کچھ گاڑی میں بھرا اور کچھ پاس رکھ لیا۔ پھر ہم چلم چوکی پہنچ گئے۔ جگلوٹ سے چلم چوکی 108 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور وادی استور سے 64 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جگلوٹ سے دیوسائی کا کل فاصلہ 143 کلومیٹر ہے۔ چلم چوکی سے ایک راستہ دیوسائی کی جانب جاتا ہے اور دوسرا راستہ وادی منیمرگ جاتا ہے جو کہ نہایت ہی خوبصورت گاوں ہے۔ چونکہ یہ گاوں بارڈر پر واقع ہے لہذا یہاں جانے کیلئے آپ کو فوج سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

 

چلم چوکی

چلم چوکی

 

چلم چوکی کے بعد آپ کو دیوسائی نیشنل پارک کی انٹری فیس ادا کرنی پڑتی ہے جو کہ 100 روپے پاکستانیوں کے لیے اور 8 ڈالرز فارنرز کیلئے ہے۔

 

دیوسائی داخلہ فیس

دیوسائی داخلہ فیس

 

دیوسائی نقشہ

دیوسائی نقشہ

دیوسائی نیشنل پارک میں داخل ہوتے ہی ایسے لگتا ہی کہ جیسے آپ کسی سحر انگیز مقام پر آ گئے ہوں، بالکل ویسے ہی جیسے سوچا تھا۔ وسیع و عریض سرسبزوشاداب کھلے میدان جو کہ رنگ برنگے اور بھانت بھانت کے پھولوں سے سجائے گئے تھے۔

 

دیوسائی

دیوسائی

 

دیوسائی

دیوسائی

دیوسائی میں داخل ہونے کے بعد ہم شیوسر جھیل پر رکے۔ یہ 3۔2 کلومیٹر لمبی نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے جوکہ دیوسائی میں واقع ہے۔ شیوسر جھیل پر ہم نے کافی وقت گزارا، تصویر کشی کی، جھیل سے لطف اندوز ہوئے اور مارموٹ کے نظارے کیے۔

 

شیوسر جھیل دیوسائی

شیوسر جھیل دیوسائی

 

شیوسر جھیل دیوسائی

شیوسر جھیل دیوسائی

جھیل کا پانی حیرت انگیز حد تک شفاف ہے جو کہ اس کی خوبصورتی کو دوبالا کرتا ہے۔ شیوسر جھیل میں آپ کے کنارے پر ہی بے تحاشہ چھوٹی مچھلیاں دکھائی دیں گی اور میرے اندازے کے مطابق جھیل میں کافی بڑی مچھلیاں ہوں گی۔

 

شیوسر جھیل مچھلیاں

شیوسر جھیل مچھلیاں

 

جھیل پر ایک ٹینٹ ہوٹل میں ہم نے دال ماش سے سیر ہو کر کھانا کھایا۔ یہ مغرب سے کوئی گھنٹہ پہلے کا وقت تھا اور ہمارا ارادہ جھیل پر کیمپنگ کرنے کا تھا لیکن ہم نے جھیل پر کافی وقت گزار دیا تھا اور فیصلہ یہ کیا تھا کہ ہم مزید آگے چلتے ہیں۔ جھیل سے ہم آگے روانہ ہو گئے۔ یہاں میں سڑک کی حالت کے بارے میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ جگلوٹ سے استور کی سڑک اگرچہ کارپٹڈ نہیں ہے لیکن پھر بھی سکردو روڈ سے کافی بہتر ہے۔ لیکن استور سے دیوسائی آپ کو تارکول والی سڑک نہ ملے یا شاید بہت زیادہ کھڈے ملیں سڑک میں۔ چلم چوکی سے آگے بالکل کچا راستہ ہے چونکہ ہمارے پاس جیپ تھی اس لیے ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی اگر میں اپنی کار پر آتا تو پھر کافی پریشانی ہو سکتی تھی۔ حالانکہ لوگ سوزوکی مہران، سوزوکی آلٹو اور ہونڈا سٹی پر بھی دیوسائی کا سفر طے کر رہے تھے لیکن اس سفر کے بعد انہی اپنی گاڑی ورکشاپ میں کھڑی کرنی پڑی ہو گی سسپنشن اور حصے کے دیگر کاموں کے لیے۔ لاہور سے لوگ موٹر سائیکل پر بھی دیوسائی کا سفر کر رہے تھے۔ آپ جو بھی گاڑی لیکر جائیں آپ کو فور بائے فور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم کالا پانی کے مقام پر رکے۔ یہاں پر پانی کالا نہیں تھا بس اس جگہ کا نام کالا پانی تھا۔

 

کالا پانی دیوسائی

کالا پانی دیوسائی

بہت خوبصورت جگہ تھی ہری بھری، سرسبز اور اس کے بیچوں بیچ پانی کی ایک نہر رواں تھی جو نظارے کو چار چاند لگانے کیلئے کافی تھی۔

 

کالا پانی دیوسائی

کالا پانی دیوسائی

کالا پانی میں ہوٹل پر ہم نے مزیدار چائے نوش کی اور اس ارادے کیساتھ آگے چلا پڑے کہ آج رات ہم بڑاپانی پر کیمپنگ کریں گے۔ ہمارے بڑاپانی پہنچتے ہی دن کی سفیدی رات کی تاریکی میں گھلنا شروع ہو چکی تھی۔ شاید کسی زمانے میں یہاں پر ندی میں پانی کا بہاو بہت تیز ہوتا ہو لیکن یہاں پر ندی کا بالکل عام سا بہاو تھا اور یہ بات بالکل بھی ماننے والی نہیں تھی کہ اس ندی کے پانی کی وجہ سے اس جگہ کا نام بڑاپانی رکھا گیا تھا۔ ہم نے جلد از جلد ندی کے کنارے کیمپنگ کیلئے ایک لہلہاتی جگہ منتخب کی اور کیمپ لگانا شروع ہوگئے۔ ابھی ایک کیمپ پورا لگایا تھا اور ایک کیمپ لگا رہے تھے کہ بڑے بڑے مچھروں کے حملے شدت اختیار کرگئے اور طے یہ پایا کہ ہم ان مچھروں کے ساتھ بالکل بھی رات نہیں بسر کر سکتے۔ میرے خیال میں اس جگہ کا نام بڑا مچھر ہونا چاہیے۔ ہم نے کیمپ دوباری گاڑی میں رکھے اور آگے چل دیے۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد ایک جگہ آئی جس کا نام شتونگ نالا تھا۔

 

شتونگ نالا

شتونگ نالا

 

شتونگ نالا

شتونگ نالا

بڑا پانی میں ہم نے ایک تباہ شدہ کیمپ دیکھا تھا ایک ہوٹل والے نے بتایا کہ رات کو ریچھ نے اس کیمپ پر حملہ کیا تھا مگر کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا۔ شتنگ بہت سرسبز و حسین مقام ہے اور حسب روایت سبزے کے درمیان سے ندی کا گزر ہو رہا ہے۔ اس وقت تک کافی اندھیرا ہو چکا تھا۔ ہم نے ندی کے کنارے ایک جگہ کیمپنگ کیلئے منتخب کی اور وہاں کیمپ لگا دیے۔

 

شتونگ نالا کیمپ دیوسائی

شتونگ نالا کیمپ دیوسائی

 

شتونگ نالا کیمپ دیوسائی

شتونگ نالا کیمپ دیوسائی

 

طے یہ پایا کہ میں اور فیضان ایک کیمپ میں رہیں گے، عثمان اور اسکا بھائی سرمد دوسرے کیمپ میں جبکہ عالمگیر اور عمر نے گاڑی میں ہی رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ہم کیمپ والوں نے رات کو اپنے پاس لوہے کے ڈنڈے رکھ لیے کہ اگر ریچھ رات کو حملہ کرلیں توحفاظت کے لیے کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔ ویسے محکمہ جنگلی حیات کیمطابق ریچھ حملہ نہیں کرتے جب تک آپ اسے تنگ نہ کریں۔ بچاو کی ایک تدبیر یہ بھی ہیکہ اپنے کیمپ کے آس پاس کھانے پینے کا سامان نہ رکھیں بصورت دیگر ریچھ کھانے پینے کے سامان کیلئے آ کر آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکتے ہیں۔ استور سے شتونگ تک ساری مشکل اور ناہموار ڈرائیونگ چونکہ عثمان نے کی تھی اسلیے وہ کافی تھک چکا تھا اور سرمد تو ویسے بھی نیند کا شیدائی ہے اس لیے دونوں سو گئے۔ رات کے اس پہر سردی بھی شدت اختیار کر چکی تھی تو ہم لوگوں نے ہوٹل پر چائے اور بسکٹ نوش کیے اور پھر سو گئے۔ رات کو ایسی زبردست نیند آئی کہ صبح 6 بجے آنکھ کھلی۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

Comments

comments