ہفتہ 29 جولائی 2017

دیوسائی جانے کا میرا خواب کافی پرانا تھا۔ لگ بھگ 8 سال پہلے جب میں نے دیوسائی پر مستنصر حسین تارڑ صاحب کا سفرنامہ پڑھا تو اس وقت سے یہ خواہش دل میں مچل رہی تھی مگر اتنے عرصے میں موقع نہ مل سکا۔ دیوسائی کے بارے میں مجھے اس کتاب کا ایک مشہور جملہ اب بھی یاد ہے۔ “میں ایک پھول ہوں، میں ایک بادل ہوں، میں ایک ریچھ ہوں، میں دیوسائی ہوں”۔ طلوع آفتاب کے بعد ایبٹ آباد سے میرے دوست جیپ میں مجھے لینے مانسہرہ پہنچ گئے۔

یہاں اس سفر کے مسافروں کا مختصر تعارف کرتا چلوں۔ عثمان شہزادہ میرا دفتری ساتھی اور دوست ہے، جیپ بھی انہی کی ہے۔سرمد جدون ان کا بھائی ہے، عالمگیر صاحب عثمان کے دوست ہیں اور انکا تعلق پشاور سے ہے، عمر عثمان کا برادر نسبتی ہے اور سردار فیضان سلطان ہماری جامع میں طالب علم ہیں۔ سفر مانسہرہ سے دوبارہ جاری ہوا اور بالاکوٹ میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے ناراں بازار میں جیپ کا مستری سے معائنہ کروایا۔ یہاں گاڑی کے بارے میں بھی مختصر سا بتاتا چلوں کہ عثمان کے پاس ٹیوٹا جیپ ایف جے فورٹی 1984 ماڈل، 4200 سی سی پیٹرول انجن کیساتھ تھی۔ گاڑی بیگز، سلیپنگ بیگز، کیمپس اور دیگر سامان سے بھری پڑی تھی۔ ںاراں سے نکلنے کے بعد ہم نے بٹکنڈی، بڑوئی سے ہوتے ہوئے جلکھڈ میں دوپہر کا کھانا کھایا اور چائے نوش فرمائی۔ سیر ہو کر کھانے پینے کے بعد ہم اپنی اگلی منزل بابوسرٹاپ کی طرف رواں دواں ہوگئے۔

ابھی تک سفر کافی پرسکون گزر رہا تھا لیکن بابو سر ٹاپ کی آخری چڑھائی پر جیپ نے اوپر جانے سے انکار کردیا۔ معلوم ہوا کہ شہزادی میں پیٹرول بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ایبٹ آباد سے گاڑی کو 70 لیٹر پیٹرول ڈال کے سیر کیا تھا اور ہمارے حساب کتاب سے ہم چلاس یا جگلوٹ تک اس پیٹرول پر جا سکتے تھے۔ خیر میں اور فیضان ایک ویگو پک اپ سے لفٹ لیکر بیسل کی جانب واپس روانہ ہو گئے۔ بیسل میں ہمیں بلیک میں 130 روپے فی لیٹر پیڑول ملا، ہم نے 20 لیٹر پیٹرول خریدا اور لفٹ لینے بیسل پولیس چوکی کے سامنے کھڑے ہو گئے مگر مجال ہے کہ کوئی مائی کا لعل ہمیں لفٹ دے۔ آدھا پونا گھنٹا انتظار کیا مگر بے سود، آخرکارایک ہائی ایس آئی جو کہ چلاس جارہی تھی اور ہم اس کے ذریعے بابوسرٹاپ پہنچ گئے۔موسم کی ٹھنڈک کے حوالے سے بابوسرٹاپ، جو کہ سطح سمندر سے 13700 فٹ کی بلندی پر ہے،  سیاحوں میں کافی مشہور مقام ہے، جب ہم پہنچے تو بارش لگی ہوئی تھی اور موسم کافی ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ گاڑی میں پیٹرول ڈال کر ہم چلاس کے لیے روانہ ہوئے۔ بابوسرٹاپ سے بابوسر گاوں اور چلاس تک کافی ذیادہ اترائی ہے اگر آپ گاڑی گیئر کی بجائے بریک پر لاتے ہیں تو بابوسر گاوں پہںچنے سے پہلے آپ کی گاڑی کی بریک فیل ہو جائے گی۔ خیر چلاس پہنچنے سے پہلے ہمیں معلوم ہوگیا کہ گاڑی کی بریک ہم سے بے وفائی کر چکی ہیں۔

چلاس بیرئیر پر ہم نے انٹری کروائی اور گلگت کی جانب رواں دواں ہو گئے۔ چلاس سے رائی کوٹ پل تک تقریبا 2 گھنٹے کا اذیت ناک سفر ہے۔ سڑک کی حالت انتہائی ابتر اور دوران ڈرائیونگ غلطی کی گنجائش صفر فیصد ہے کیونکہ جاتے ہوئے سڑک کے بائیں جانب دو سے تین سو فٹ نیچے دریائے سندھ ٹھاٹھیں مارتا ہوا جا رہا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اندھیرا چھا گیا اور ہم پر یہ آشکارا ہوا کہ گاڑی کی ہیڈ لائیٹس کافی کمزور ہیں اور جب دوسری طرف سے گاڑی کی لائٹس لگتی ہیں تو آپ تقریبا اندھے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ہم دو مسائل کا شکار تھے ایک تو گاڑی کی بریکیں نہیں تھیں اور دوسرا لائیٹس کافی کمزور تھیں۔ خیر آہستہ آہستہ ہم رائی کوٹ پل پر پہنچ گئے۔یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ رائی کوٹ سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ کا راستہ جاتا ہے۔ رائی کوٹ پل کے بعد سڑک کارپٹڈ اور کافی کشادہ ہوجاتی ہے تو نسبتا ڈرائیونگ آسان ہوجاتی ہے یہاں سے خنجراب بارڈر تک سڑک کی یہی بہترین حالت ہے۔ پھر ہم نے جگلوٹ سے پانی وغیرہ پیا اور گلگت کے لیے روانہ ہوگئے۔ جگلوٹ کے قریب ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں نہ صرف دریائے گلگت اور دریائے سندھ ملتا ہے بلکہ 3 مشہور پہاڑی سلسلے ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم بھی ملتے ہیں۔ رات کو تقریبا 9 یا 10 بجے ہم گلگت پہنچے اور ہم نے ایک مقامی ہوٹل میں قیام کیا۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

Comments

comments