گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – گلگت کا سفر

اتوار 30 جولائی 2017

 صبح ہم نے گلگت میں ہوٹل سے چیک آوٹ کیا اور عثمان کے دوست اکمل کے ذریعے ایک جیپ کے مستری کے پاس ورکشاپ پہنچ گئے۔ گاڑی کی سروو بریک ختم ہو چکی تھی اور گاڑی کو شدت سے ٹیونگ کی ضرورت تھی اسی وجہ سے اس نے ذیادہ پیٹرول پھونکا اور ہمیں بابوسرٹاپ پر خوار ہونا پڑا۔ خیر، نیا سروا خرید کر لگانے اور ٹیونگ پر کافی ذیادہ وقت لگ گیا۔ اسی دوران اکمل اور اسکا دوست ہمارے لیے دوپہر کا کھانا لے آئے۔

 

ممتو

ممتو

ممتو میدے، قیمے اور پیاز سے بنا ہوا بہت ہی لذیذ پکوان ہے جو کہ ہم نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ میں اکمل کا دوبارہ شکریہ ادا کرتا ہوں کے انہوں نے ہمیں یہ پکوان پیش کیا۔ شام تقریبا 4 بجے ہم گاڑی کا کام ختم کروا کے ہنزہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ پہلے ہمارا ارادہ شندور پولو فیسٹول چترال جانے کا تھا مگر سڑک کی ابتر حالت اور طویل دورانیے کی وجہ سے ہم نے شندور کا ارادہ ملتوی کر دیا۔  ضلع نگر میں مناپن کے مقام پر آپ راکاپوشی کا نظارا بھی کرسکتے ہیں۔ راکاپوشی پہاڑ قراقرم کے پہاڑی سلسہ میں نگر ضلع میں ہ واقع ہے اور اس کی اونچائی 7788میٹر ہے۔ یہ دنیا کی 27ویں بلند ترین چوٹی ہے اور پاکستان کی 12ویں بلند ترین چوٹی۔ راکاپوشی پہاڑی قدرت کا ایک نہایت ہی حسین شاہکارہے۔

 

راکا پوشی

راکا پوشی

گلگت سے ہنزہ تقریبا دو گھنٹے کا سفر ہے اور سڑک بہترین حالت میں ہے۔ ہنزہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور ہنزہ کے باسیوں کے اخلاق کی وجہ سے سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ گلگت اور ہنزہ پاکستان میں ڈرائی فروٹ کے لیے بھی مشہور ہیں۔ علی آباد ہنزہ کا بازار ہے وہاں سے کریم آباد جا کر ہم نے ایک ہوٹل کی چھت پر خیمے گاڑ دیے۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

Comments

comments