گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – وادی ہنزہ

پیر 31 جولائی 2017

ہنزہ میں ہوٹل کا مالک نہایت عمدہ شخصیت اور اعلی اخلاق کا مالک تھا صبح سویرے مالک حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کو کوئی مسئلہ یا پریشانی تو نہیں یا آپ پیسے دینے پر ناراض تو نہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ آپ رات کو کافی لیٹ آئے تھے ورنہ میں آپ کو خوبانی پیش کرتا۔ قرب وجوار میں خوبانی کے جتنے درخت ہیں آپ اپنے سمجھیں اور بلا جھجک آپ وہاں سے خوبانی کھا سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے خوبانی سے ناشتہ کیا۔ ایسی لذیذ اور رس بھری میٹھی خوبانی میں نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ وہاں سے ہم ایگل نیسٹ ویو پوائنٹ گئے جہاں سے آپ آسانی سے پوری وادی ہنزہ کے نظارے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر عوام نے تصویرکشی کی اور نظارے سے بھرپور لطف اندوز ہوئے۔

 

ایگل نیسٹ ویو پوائنٹ ہنزہ

ایگل نیسٹ ویو پوائنٹ ہنزہ

پھر ہم نے التیت اور بلتیت قلعے کا دورہ کیا اور اس دور کے معماروں کے فن تعمیر کو داد دی۔ بندہ ہنزہ آئے اور عطا آباد جھیل کے قدم نہ چھوئے تو یہ ظلم والی بات ہے۔ ویسے بھی پچھلے سال پہلی دفعہ اس جھیل کا نظارہ کرنے کے بعد میں سیف الملوک اور لولوپت سر جھیل کی خوبصورتی کو بالکل بھول چکا تھا۔ پاک چین دوستی سرنگ سے پہلے لوگ کشتیوں پر اس جھیل کا سفر طے کرتے تھے گاڑیاں اور ٹرک بھی کشتیوں  کے ذریعے جھیل کا سفر طے کرتے تھے۔ پاک چین دوستی سرنگ جوکہ تقریبا 7 کلومیٹر طویل ہے اس نے عطاآباد جھیل کا سفر نہایت آسان کردیا اور مقامی لوگوں اور سیاحوں کو کشتی کے طویل مگرلطف اندوز سفر اور وقت کے ضیاء سے بچا لیا۔

 

عطاآباد جھیل ہنزہ

عطاآباد جھیل ہنزہ

 

میں اور عالمگیر قریب سے پیٹرول پتا کرنے چلے گئے جبکہ باقی عوام جھیل میں کشتی رانی سے لطف اندوز ہونے لگی۔ وہاں پیٹرول تو تھا مگر بجلی میسر نہیں تھی اس لیے ہم واپس آگئے اور علی آباد سے پیٹرول ڈلوادیا۔ واپسی پر ہم نگر میں ایک ڈرائیور ہوٹل پر کھانے کے لیے رکے اور پھر ہم نے جگلوٹ میں پانچ منٹ پانی وغیرہ پیا اور سفر جاری رکھا۔ اب ہماری اصل منزل دیوسائی تھی اور وہاں جانے کے دو راستے تھے ایک تو جگلوٹ سے سکردو اور وہاں سے دیوسائی جاتا تھا اور دوسرا جگلوٹ سے تھوڑا آگے جاکر وادی استور سے ہو کر دیوسائی جاتا تھا۔ اس وقت شام کے تقریبا پانچ بج رہے تھے اور وقت بہت قلیل تھا۔ بقول اکمل کے استور والا راستہ نسبتا بہتر ہے سکردو والے رستے سے۔ ابھی تک عثمان جیپ چلا رہا تھا اور وہ کافی تھک چکا تھا۔ جگلوٹ سے عثمان نے جیپ میرے حوالے کر دی اور یہاں سے وادی استور 44 کلومیٹر ہے۔ ابھی میں نے سٹیئرنگ کا چرخہ سنبھالا ہی تھا کہ ایک خطرناک موڑ میں سے ناٹکو نے ایک ٹرک کو اورٹیک کیا اور میرے سامنے آگیا۔ میرے سامنے دائیں جانب ٹرک، بائیں جانب ناٹکو جوکہ میری لین میں تھی ، میرے پیچھے پولیس کی موبائل اور میرے بائیں جانب تین چار سو فٹ نیچے ٹھاٹھیں مارتے اور خوفزدہ کردینے والا دریائے سندھ۔ میری گاڑی کی رفتار بہت زیادہ تیز نہیں تھی اسی لیے میں نے گیئر میں گاڑی کو قابو میں کرلیا۔ خیر،شاہرائے قراقرم سے ہم استور کیطرف مڑگئے۔ کچھ دیر بعد دن کے اجالے پر رات کا اندھیرا مسلط ہوگیا۔ جیپ کی ہیڈلائیٹس کافی کمزور تھی اور ہم کافی اونچے پہاڑ پر سے جارہے تھے مگر آہستہ آہستہ ہم وادی استور پہنچ گئے۔ یہ رات کا کوئی 10 بجے کا وقت تھا ہم استور بازار میں موجود تھے وہاں ہم نے پنجاب ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا جو کہ بالکل بھی لذیذ نہیں تھا۔ عثمان کا مشورہ تھا کہ ہم کسی اور ہوٹل میں کھانا کھائیں مگر میرے اسرار پر ہمیں ایسا کھانا کھانا پڑا۔ پنجاب ہوٹل کا مشورہ ایک بیکری والے کا تھا جس سے ہم نے بیکری کا کچھ سامان خریدا تھا۔ استور سے راما جھیل کا فاصلہ 10 کلومیٹر کا ہے مگر ہماری حالت ایسی تھی کہ ہم مزید سفر نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہم نے استور   میں ایک ہوٹل کے باغیچے میں اپنے ٹینٹ گاڑ لیے اور سو گئے۔ یہ ہوٹل استور میں پولوگراونڈ کے سامنے ہے۔

جاری ہے۔ ۔ ۔

Comments

comments