دیار غیر میں پاکستانی کھانوں کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ویسے تو ہم پاکستانی کھانے بڑے شوق سے بناتے اور  چسکے لے لیکر کھاتے ہیں مگر کچھ کھانے تیار کرنے کیلئے بڑی محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے۔ گاجر کا حلوہ بھی انہی لذیذ کھانوں میں سے ایک ہے جسے تیار کرنے کیلئے وقت ، مشقت، اور محنت کیساتھ ساتھ آپ کو پائے کی ہمت اور حوصلہ بھی چاہئے ہوتا ہے۔  سردیوں کا موسم ہو اور گاجر کا حلوہ نہ ہو تو بات کچھ ادھوری ادھوری سی لگتی ہے۔ گھر میں امی جب سردیوں میں گاجر کا حلوہ بناتی تھی تو بڑے مزے لے لیکر کھاتا تھا۔ اگر کبھی وہ گاجریں کدوکش کرنے کا کہتی تو چھوٹے بہین بھائیوں کو کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر اور کبھی منت سماجت کرکے گاجریں کدوکش کروا لیتا۔ لیکن یہاں کیا کرتا؟ کس کو ڈانٹتا؟ قاضی صاحب جب ڈھیر ساری گاجریں اور سازوسامان لیکر گھر میں وارد ہوئے تو حکم ہوا کہ گاجروں کو کدوکش کرنے کی ذمہ داری میری ہے۔ پہلے تو قاضی صاحب کو دل میں بہت کوسا، بہت برا بھلا بھی کہا لیکن پھر چپ ہو گیا۔ آپکو بتاتا چلوں کہ میں،  قاضی صاحب، سلیمان بھائی، سمیر بھائی  اور  قیصر بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ میں نے قاضی صاحب سے جان خلاصی کی کافی کوشش کی مگر وہ نہ مانے اور مجبورا مجھے انکی چھٹی یا ساتویں آواز پر میدان میں کودنا پڑا۔ چھ سات کلو کے لگ بھگ گاجریں قاضی صاحب نے چھیل کر میری خدمت میں پیش کیں۔ ایک دفعہ پھر دل میں قاضی صاحب کو کوسنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اللہ اللہ کرکے میں نے پرانی باتیں بھلا کر گاجریں کدوکش کرنا شروع کیں۔

Comments

comments