میرا اور میری قوم کا ایک انتہائی سنجیدہ المیہ ہے۔ ہم دونوں خواہشات کو ضروریات بنا لیتے ہیں۔ ہم اچھی بھلی خوش و  خرم زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اورپھر نہ جانے دنیا کی یہ چکا چوندی ہمیں اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور ہم اپنی چادر سے زیادہ پاوں پھیلا لیتے ہیں۔ مانا کہ یہ ٹیکنالوجی بہت ضروری ہے مگر ایسا بھی کیا کہ ہم فیس بک اور یو ٹیوب کو معاشرتی زندگی پر ترجیح دے دیتے ہیں؟

ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تھوڑا ضروریات اور خواہشات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سیکنڈری سکول تک میں اور میرا بڑا بھائی محلے کے گراونڈ میں سکول کے بعد کھیلنے جایا کرتے تھے۔ ہم دونوں ، محلے کے دوسرے بچوں کیساتھ ملکر، خوب پتنگ بازی کرتے یا بنٹے کھیلتے یا کرکٹ کھیلتے تھے۔ ہائی سکول کے زمانے میں اس گراونڈ میں گھر بن گئے۔ پھر میں اور میرا بڑا بھائی ٹیلی ویژن کے ساتھ اٹاری گیم لگا کر کھیلا کرتے تھے۔ کبھی کبھی گھر کی چھت پر ابا جی سے چھپ کر پتنگ بازی بھی کر لیا کرتے تھے۔ اٹاری گیم کھیلنے سے یہ ہوا کہ ہم کھیل کود بھی کر لیتے اور تفریح بھی ہو جاتی مگر یہ قطعا مثبت تفریح نہیں تھی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو ہم دونوں بھائیوں کی صحت مندانہ تفریح بلکل ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ دوسرا ہمارا محلے کے دوسرے لڑکوں کیساتھ ملنا جلنا بلکل ختم ہو گیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ھیکہ سکول میں ہمارا اپنے ہم جماعتوں کیساتھ کافی اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا مگر وہ صرف نصابی سرگرمیوں تک محدود تھا لیکن میں اس وقت غیر نصابی سرگرمیوں کا ذکر کر رہا ہوں۔

اس کے کئی نقصانات ہوئے۔ ہم دونوں بھائیوں کی معاشرتی زندگی ختم ہو کر رہ گئی اور اگر دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ہماری سوچ کویں کے مینڈک کے سی ہو گئی۔ مانا کہ محلے کا کھیلنے والا گراونڈ ختم ہونا اسکی ایک اہم وجہ ہے۔ لیکن میری نظر میں اسکی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم دونوں نے اپنی خواہش کو ضرورت بنا لیا تھا۔ ہم اگر چاہتے تو گھر کے باغیچے میں بھی تفریحی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے تھے مگر نہیں، خواہشات، خواہشات اور خواہشات۔
ہم تو اپنی خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے تھے۔ ابھی اٹاری کی لت لگی ہی ہوئی تھی کہ میں نے میٹرک کا امتحان دے دیا اور مجھے چھٹیاں ہو گئیں۔ اٹاری کا دور تقریبا ختم ہو چکا تھا اور ان دنوں کمپیوٹر کا دور دورا تھا۔ ہر ایک کی زبان پر کمپیوٹر کا لفظ گردش کرتا نظر آتا تھا۔ پھر ہائی سکول میں میں نے کمپیوٹر لے لیا اور ہم نے اٹاری کی بجائے کمپیوٹر پر ڈیو گیم، نیڈ فار سپیڈ گیم اور آئی جی آئی گیم کھیلنا شروع کر دی۔ میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ مجھے تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ہر گز کمپیوٹر کی ضرورت نہیں تھی مگر مجھے اور میرے بھائی کو تو تفریح کے لیے کمپیوٹر کی ضرورت تھی اور اس سلسلہ میں میں نے والد صاحب سے کہا کہ ہمیں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے کمپوٹر بہت ضروری ہے اور آجکل تو ہر کوئی اس نیک مقصد کیلئے کمپیوٹر لے رہا ہے۔

میرے لیئے خواہشات کو ضروریات بنانے کا یہ دوسرا درجہ تھا اور یہ خون پکا پکا میرے منہ کو لگ رہا تھا۔ خواہشات کے اس دوسرے درجے پر بھی زندگی کافی حد تک پر سکون تھی مگر پھر میرے بھائی کا شوق تو کمپیوٹر سے ختم ہو گیا مگر میں تو خواہشات کے نشے کا عادی ہو چکا تھا۔ پھر میں نے کمپیوٹر سے انڑنیٹ تک کے سفر کے لئے موڈیم (ڈائل اپ انٹرنیٹ کے استعمال کیلئے ضروری ڈیوائس) خرید لیا اور پنگا اور پاک نیٹ جیسے پر پیڈ کارڈز پر انڑنیٹ کا استعمال شروع کر دیا۔ ڈائیل اپ پر میں تین سے چار کلو بائیٹ ڈیٹا فی سیکنڈ آسانی سے ڈاون لوڈ یا براوز کر سکتا تھا۔

مارچ 2009 پی ٹی سی ایل کے ڈی ایس ایل شروع کرتے ہی میرا خواہشات کے تیسرے درجے پر آنے کا وقت آگیا اور میں نے ڈی اس ایل لگو لیا۔ ڈائیل اپ پر میں اخبار پڑھ سکتا تھا، ای میل پڑھ سکتا تھا، ویب سائیٹس بھی بناتا تھا اور مجھے قطعا ڈی ایس ایل کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر میں مسلسل خواہشات کو ضروریات بنانے کا سفر طے کر رہا تھا۔

میرا اور ہماری قوم کا خواہشات و ضروریات کا دوسرا پہلو۔

90   کی دہائی میں ہم اچھے بھلے پی ٹی سی ایل کے لینڈ لائن ٹیلیفون استعمال کر رہے تھے مگر پھر موبائل فونز کا سونامی آیا جو اس قوم کو لے ڈوبا۔ نائٹ پیکجز اور ایس ایم ایس پیکجز نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا۔ اس سے نہ صرف ہماری معاشرتی زندگی بری طرح متاثر ہوئی بلکہ ہم لوگ دین سے بھی دور ہو گئے۔

مہاتما بدھ کا کہنا ھیکہ اگر ہم اپنی خواہشات پر قابو پا لیں تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ ہمیں اپنی ضروریات اور خواہشات میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ اسکی ایک سادہ سی مثال سے شاید میں اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہو جاوں۔ سفر کرنا ضرورت ہے مگر نت نئے ماڈل کی گاڑیوں میں سفر کرنا خواہشات کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں اپنے آپ کو ضروریات تک محدود رکھنا چاہیے اور خوہشات کی یہ لت ہمیں دین سے بھی دور کر دیتی ہے۔

Comments

comments