بارش کا طوفان برس رہا تھا، دن کی سفیدی رات کی سیاہی میں کافی حد تک گھل مل گئی تھی اور ہماری جیپ ایک اونچے پہاڑ کی بل کھاتی کچی سڑک پر دوڑی جا رہی تھی۔ ہم چند دوست اس جیپ میں سوار ، کچھ ٹینٹ، کچھ بستر ، اشیائے خوردونوش، اور ایک عدد گیس سلنڈر کیساتھ بارش کے تھمنے کی دعائیں کرنے میں مصروف تھے۔ ہمیں پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے اس بل کھاتی ، کچی، پھسلن سے بھرپور اور بے وفا سڑک کے ذریعے تقریبا ۵ سے ۶ کلومیڑ کافاصلہ طے کرنا تھا۔یہ ایک ایسی سڑک تھی جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک جیپ گزر سکتی تھی ۔ اگرچہ کچھ مقامات سے دو جیپیں بیک وقت گزر سکتی تھیں مگر اونچائی کی طرف جاتی ہوئی جیپ کیلئے رکنا خطرے سے ہر گز خالی نہیں تھا۔ سفر کے اس حصے میں سب سے بڑا خطرہ کچی سڑک کی وجہ سے پھسلن کا تھا۔ واضح رہے کہ اس سڑک پر عام گاڑی کے چلانے کی قطعا کوئی گنجائش نہیں تھی اور یہ صرف جیپ کے ہی بس کا کام تھا۔ سفر کا یہ حصہ شروع کرنے سے پہلے ہمارے ڈرائیور کے آخری تسلی بخش الفاظ یہ تھے ۔
’’تسی کہابرو نہ جی، بارش لگنڑاں سی پہلے تساں کو چوٹی تا پچا کنساں، میں اس شڑکا تا روز گڈی ٹوردا ہاں‘‘ (مقامی زبان)
’’آپ فکر نہ کریں، بارش شروع ہونے سے پہلے میں ٓپ کوپہاڑ کی چوٹی پر پہنچا دوں گا، اس سڑک پر میں روز گاڑی چلاتا ہوں‘‘ (اردو ترجمہ)
زندگی کی مصروفیات اور موسم کی گرمی سے تنگ ہو کر چند نوجوان ہوا خوری کی غرض سے ذاد راہ لیکر دنیا کے مسائل اور پریشانیوں سے آزاد ہو کر کچھ دن سکون سے گزارنے کیلئے چل پڑے۔ پہلی منزل مقصود پر پہنچتے ہی پہلی مصیبت سے چھٹکارا حاصل ہوا اور تمام دوستوں کے موبائل فونز نے سگنل پکڑنے سے انکار کر دیا۔ ہم لوگ تعلیم، نوکری یا کاروبار میں مصروف رہتے ہیں اور ہمارے شب و روز یوں ہی بسر ہوتے ہیں۔اس مصروف زندگی میں سے ہمارا اپنے اور صرف اپنے لیے فرصت اور تفریح کے چند لمحات نکالنا بھی محال ہوتا ہے۔ تعلیم ، نوکری یا پیسے کی اس دوڑ میں ہم زندگی گزارنا بھول جاتے ہیں اور ہم جینا بھول جاتے ہیں۔ہم ٹیلی ویژن دیکھنے ، خبریں سننے یا فلمیں دیکھنے کو تفریح سمجھ بیٹھتے ہیں۔ہم موبائل فونز، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں اپنی تفریح تلاش کرتے ہیں۔ان فریبی تفریحات کیوجہ سے
ہم قدرتی خوبصورتی اور اصل تفریح سے کتنے دور نکل جاتے ہیں؟
ہم نے سوچا کہ مقامی بندہ ہے اور اس علاقے میں گاڑی چلانے پر عبور بھی حاصل ہے اور ہم نے اس کی بات مان لی۔ ابھی سفر کے کچھ لمحات ہی بیتے تھے کہ طوفانی بارش نے آ پکڑا مگر ہم پھر بھی کافی حد تک پر سکون تھے۔ سردی کے اس سخت موسم میں ڈرائیور کی پیشانی پر پسینے کی چند بوندیں دیکھ کر ہمیں بھی فکر شروع ہو گئی۔اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔سڑک کافی حد تک پھسلن کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن ڈرائیور کافی حد تک زندہ دل تھا اورڈرائیونگ کی مہارت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ خوشی کے لمحات میں تو ہم نے اپنے رب کو شازوناز ہی یاد کیا ہو(اللہ ہم سب کو اپنی اطاعت و عبادت کی توفیق دے اور اس پر استقامت بھی دے۔آمین) مگر اس سفر کے دوران ہم نے کافی دفعہ آیت الکرسی کا ورد کیا۔ ابھی آدھا سفر ہی طے کیا تھا کہ اوپر سے ایک جیپ نیچے آتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر ہمارے اوسان خطا ہو گئے مگر آفرین ہے اس ڈرائیور کی ذہانت پر کہ اس نے ایک مناسب جگہ پر اپنی گاڑی کھڑی کر دی جہاں سے بمشکل دو گاڑیاں آسانی سے گزر سکتی تھیں۔پھر ہم سب نیسکھ کا سانس لیا اور اللہ اللہ کرکے ہم اپنی منزل مقصود پر پہنچے اور کوئی بھی شخص ڈرائیور کی مہارت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ہم جنت کے کسی دلکش حصے میں بغیر حساب کتاب کے اس جیپ کے ذریعے پہنچ گئے۔ ایک لمحے کیلئے تو میں سب کچھ بھول گیا اور قرب وجوار کے دلفریب مناظر دیکھتے ہی میری سوچیں بھی منجمند ہو گئیں۔ لہلہاتا ہوا سبزہ، کچھ کچی جھونپڑیاں اور اوپر سے بارش کی رم جھم، ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے نہانے کے بعد کسی کے لمبے گھنے سیاہ بالوں سے پانی کے گرتے قطرے دیکھ کر تازگی کا ایک نرالا احساس ہوتا ہو۔ قریب سے ہی ٹھنڈے پانی کی ایک چھوٹی سی نہر گزر رہی تھی جسے دیکھ کر یہ منظر مزید سہانا ہوگیا۔ابھی میں اسیحسار میں قید تھا کہ میرے دوست کی آواز آئی کہ بارش بہت تیز ہے، جیپ سے سامان اتارو۔ بارش کیوجہ سے اس خوبصورت مقام پر سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی جو کہ ہماری خوش قسمتی تھی۔ ٹینٹ نصب کرنے سے بچنے کے لیے ابھی میں کوئی بہانہ سوچ ہی رہا تھا کہ میرے دوستوں نے سامان ایک کچی جھونپڑی میں منتقل کرنا شروع کردیا۔ یہ دیکھ کر میں بھی ان کیساتھ ہاتھ بٹانے میں مصروف ہو گیا۔سارا سامان منتقل کرنے پر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ ایک جھونپڑی نما ہوٹل ہے جو کہ خصوصی طور پر سیاحوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ موسم کی بے وفائی ،طوفانی بارش، سفر کی تھکاوٹ اور کیمپ لگانے سے بچنے کیلئے ہم سب نے کیمپنگ کی بجائے ہوٹل میں کمرہ لینے میں ہی عافیت سمجھی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم سب نے کچن کا رخ کیا۔ لکڑیوں کا تندور اور چولہا، تختوں سے بنے کچھ بینچ، کچھ بوتلیں جن میں چینی، چائے اور امصالحہ جات تھے، آگ کا ایک الاؤ جس کے گردکچھ منچلے نوجوان بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے، اس سب نے مخصوص دیہاتی ماحول کی یاد دلاتے ہوئے اس تفریحی دورے کا مزہ دوبالا کردیا۔

جگہ: لالہ زار, ناراں

Comments

comments