باورچی خانے کی کشادہ کھڑکی سے باہر کا حسین منظر مجھ جیسے سست اور کاہل انسان کو تازگی بخشنے کے لیے کافی تھا۔ مجھے گرمیوں کے دن اچھی طرح یاد ہیں جب ہر طرف سبزہ زار تھا مگر اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے سفید قالین پوری زمین پر بچھا دی ہے جس سے سارا سبزہ زار ڈھنپ گیا ہے۔ پچھلے سال کی سردیاں مجھے بار بار یاد آ رہی تھی جب اکتوبر کے مہینے سے ہی برفباری شروع ہو گئی تھی مگر اس بار برف کچھ خاص نہ جمی۔ آخرکاربرفباری کا  یہ انتظار ختم ہوا اور جنوری کے مہینے میں برفباری نے اپنی قسم توڑی اور سب کچھ سفید کردیا۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں بڑے مزے سے کافی کی چسکیاں لے رہا تھا۔ کافی ختم ہوتے ہی میں اٹھا اور باہر جانے کیلئے خلائی لباس، دستانے، ٹوپی، مفلر، موزے اور سائیکل کی چابی ڈھونڈنے میں مشغول ہو گیا۔ عمارت سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈک کا وہ احساس ہوا جو میں گھر بیٹھ کر قطعاً محسوس نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سائیکل کا تالا کھولا، اس کی سیٹ سے برف صاف کی اور دھیمے دھیمے روانہ ہو گیا۔

Comments

comments