میں دیوسائی ہوں – واپسی کا سفر

رضوان عباسی نے جمعہ، ۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – سکردو

جمعرات 03 اگست 2017

صبح 7 بجے ہم سکردو کے مقامی ہوٹل سے روانہ ہوئے۔ اگرچہ ہوٹل والے کا یہ خیال تھا کہ ہم 12 یا 1 بجے جائیں کیونکہ رات کو لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے لیکن اس صورت میں ہم بابوسر ٹاپ کیلئے چلاس بیرئیر وقت پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ راستے میں سکردو شہر میں ایک جگہ سڑک پر پانی کا بہاو کافی ذیادہ تھا اور کافی گاڑیاں بھی وہاں رکی ہوئی تھیں لیکن جیپ کیوجہ سے ہم نے وہ پانی پار کرلیا ورنہ کار ہوتی تو ہم پھنس جاتی۔

سکردو کی سڑک انتہائی ابتر حالت میں ہے اور کافی خطرناک بھی ہے۔ ہمارے سر پر بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ 4 بجے سے پہلے چلاس بیرئیر پار کرنا ہے۔ عثمان کی ہمت کی داد دیتا ہوں کہ ٹیوٹا جیپ جس کا سٹیئرنگ بھی ہائےڈرالک نہیں ہے ہو مسلسل سکردو سے چلاس تک چلاتا رہا۔ چلاس پہنچنے پر پتا چلا کہ بابوسر ٹاپ لینڈسلائیڈنگ کیوجہ سے 3 روز کےلیے بند ہے۔

اس وقت شام کے چار بج رہے تھے کسی زمانے میں رات کے وقت چلاس سے داسو گاڑیاں کانوائے میں آتی جاتی تھیں۔ خیر عثمان نے جیپ میرے حوالے کی اور میں نے قراقرم ہائی وے پر گاڑی دوڑانا شروع کردی۔ میں نے ایک ڈرائیور ہوٹل پر گاڑی روکی اور ہم سب نے کھانا کھایا۔ چلاس سے داسو تقریبا 123 کلومیٹر کا سفر ہے اور سڑک کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ 10 بجے کے قریب ہم داسو پہنچے، گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا اور 15 منٹ آرام کیا۔

داسو سے بشام تقریبا 2 گھنٹے میں پہنچے۔ بشام سے سوات 150 کلومیٹر ہے لیکن ہم نے اپنا سفر قراقرم ہائی وے پر جاری رکھا، تھاکوٹ سے ہوتے ہوئے بٹگرام پہنچے اور پھر تقریبا صبح 3 بجے ہم شنکیاری مانسہرہ پہنچے۔ شنکیاری پہنچ کر میری ہمت جواب دے گئی تھی کیونکہ میں مسلسل 11 گھنٹے سے گاڑی چلا رہا تھا۔ صبح 5 بجے ہم مانسہرہ شہر پہنچے اور ہمارا سکردو شہر سے مانسہرہ شہر تک 22 گھنٹے کا مسلسل سفر تھا۔ اس پورے تفریحی سفر کے دوران ہم نے کافی ساری نئی جگہیں گھومی، نئے قلعے اور نئی جھیلیں دیکھیں۔

جھیلیں

1۔ شیوسر جھیل، دیوسائی

2۔ ستپارہ جھیل، سکردو

3۔ لوئر کچورا جھیل، سکردو

4۔ اپر کچورا جھیل سکردو

قلعے

1۔ التیت قلعہ، وادی ہنزہ

2۔ بلتیت قلعہ، وادی ہنزہ

3۔ شگر قلعہ، شگر بلتستان

 وادیاں

1۔ ہنزہ

2۔ استور

اس تفریحی دورے کا سب سے حسین اور لطف اندوز منظر شوتنگ دیوسائی میں کیپمنگ تھا۔ اس پورے تفریحی دورے پر فی کس لاگت تقریبا 10 ہزار روپے آئی جس میں گاڑی کی مرمت بھی شامل ہے۔ یہ خرچہ مزید کم ہو سکتا تھا اگر گاڑی کی ٹیونگ پہلے سے کی ہوتی۔ بہرحال اس ٹرپ کا ایک مشہور انگریزی محاورہ ہے  ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔(We learn from our mistakes)


میں دیوسائی ہوں – سکردو

رضوان عباسی نے جمعرات، ۱۴ ستمبر ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

گزشتہ: میں دیوسائی ہوں بدھ 02 اگست 2017 صبح ہوتے ہیں ہم نے کیمپ پیک کیے اور سکردو کیلئے روانہ ہوگئے۔   سکردوشہر سے پہلے ہم نے سدپارہ جھیل کا نظارہ کیا۔ یہ قدرتی جھیل بھی بہت خوبصورت ہے اور اسے سکردو شہر کو پانی دینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جھیل کے آخر میں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


میں دیوسائی ہوں

رضوان عباسی نے پیر، ۱۱ ستمبر ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – وادی استور منگل 01 اگست 2017 استور میں ہم صبح سویرے جاگے اور ویسے بھی ٹینٹ میں دھوپ کی وجہ سے بندہ دوپہر تک نہیں سو سکتا ۔ اسی ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم دیوسائی کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہم پر دیوسائی کا ایسا جنون سوار تھا کہ ہم […]

مکمل تحریر پڑھیے »


میں دیوسائی ہوں – وادی استور

رضوان عباسی نے بدھ، ۳۰ اگست ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – وادی ہنزہ پیر 31 جولائی 2017 ہنزہ میں ہوٹل کا مالک نہایت عمدہ شخصیت اور اعلی اخلاق کا مالک تھا صبح سویرے مالک حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کو کوئی مسئلہ یا پریشانی تو نہیں یا آپ پیسے دینے پر ناراض تو نہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ آپ رات […]

مکمل تحریر پڑھیے »


میں دیوسائی ہوں – وادی ہنزہ

رضوان عباسی نے جمعرات، ۲۴ اگست ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

گزشتہ: میں دیوسائی ہوں – گلگت کا سفر اتوار 30 جولائی 2017  صبح ہم نے گلگت میں ہوٹل سے چیک آوٹ کیا اور عثمان کے دوست اکمل کے ذریعے ایک جیپ کے مستری کے پاس ورکشاپ پہنچ گئے۔ گاڑی کی سروو بریک ختم ہو چکی تھی اور گاڑی کو شدت سے ٹیونگ کی ضرورت تھی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


میں دیوسائی ہوں – گلگت کا سفر

رضوان عباسی نے منگل، ۲۲ اگست ۲۰۱۷ کو شائع کیا.

لو بھئی گاجر کا حلوہ

رضوان عباسی نے منگل، ۳۱ جنوری ۲۰۱۲ کو شائع کیا.

زندگی کا سفر

رضوان عباسی نے اتوار، ۲۲ جنوری ۲۰۱۲ کو شائع کیا.

ضروریات سے خواہشات کا سفر

رضوان عباسی نے اتوار، ۱۵ جنوری ۲۰۱۲ کو شائع کیا.

برفباری

رضوان عباسی نے اتوار، ۸ جنوری ۲۰۱۲ کو شائع کیا.